بھٹکل 6 مئی (ایس او نیوز) بھٹکل شمس اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران اسکول کے ہی استاذ اور کنڑا کے معروف صحافی محمد رضا مانوی کے فرزند 14 سالہ محمد غِطریف رِدا مانوی نے حفظ قران مکمل کرکے اپنے خاندان میں پہلا حافظ قران بننے کا شرف حاصل کرلیا ۔ اس پُربہار اور پر رونق موقع پر حافظ قرآن کے اعزاز میں بعدنماز جمعہ مسجد احمد سعید (ہورلی سال، بھٹکل) میں ختم قران کی مجلس کا انعقاد کیا گیا اوراس کے استاذ مولانا فرقان احمد رکن الدین کے ذریعے حفظ قران کی تکمیل کی گئی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسجد کے خطیب مولانا جعفر فقیہ ندوی نے حفظ قران کی فضیلت بیان کی اور کہا کہ قران کو سینے میں محفوظ کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کےہاں بہت بڑا اجر ہے ۔ مولانا نے حافظ قران محمد غِطریف کے تعلق سے کہا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے کہیں گے کہ قرآن شریف پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا۔ مولانا نے اللہ کے کلام کو اپنے سینے میں محفوظ کرنے پر غِطرف سمیت اُس کے والدین کو مبارکباد پیش کی۔
والد محمد رضا مانوی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے فرزند غِطریف کوشمس میں پہلے پانچویں تک پڑھایا پھر انہوں نے اسکول سے نکال کر اُسے حفظ کرانے کے مقصد سے بھٹکل جامعہ اسلامیہ میں داخل کرایا، مگرجامعہ میں داخل کرنے کے ایک سال کے اندر ہی کورونا لاک ڈاون سے سبھی اسکول اور مدارس بند ہوگئے، البتہ لاک ڈاون سے پہلے ہی غِطریف نے پانچ یا چھ پارے حفظ کرلئے تھے۔ لاک ڈاون کی وجہ سے غِطریف کو انہوں نے مولانا فُرقا ن احمد رکن الدین کے ذریعے گھر پر ہی حفظ قران کی تعلیم کو جاری رکھا ، مولانا اُسے فجر کی نماز کے بعد دو گھنٹے پڑھاتے تھے، پھر شام کو موبائل کے ذریعے بھی اس کے حفظ کئے ہوئے پاروں کو سُنتے تھے۔ مولانا کی ہی دلچسپی اور ان ہی کی شاگردی میں غِطرف نے قریب ساڑھے تین سال کے عرصے میں حفظ مکمل کیا۔ جناب رضا مانوی نے بتایا کہ لاک ڈاون کھلنے کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے کو واپس اسکول میں (آٹھویں ) میں داخلہ کروا دیا تھا۔ اب وہ نویں جماعت میں پڑھ رہا ہے۔
محمد غِطریف کے تعلق سے پتہ چلا ہے کہ وہ ماشاء اللہ بے حد بااخلاق اور ذہین بچہ ہے، لاک ڈاون کے دوران محلہ کے بچوں اور گھروالوں کے ساتھ گھر پر ہی تراویح پڑھاتا تھا اور حفظ کئے ہوئے قران کے پاروں کو سناتا تھا۔
مسجد میں حفظ قران کی تکمیل کے لئے منعقدہ جلسہ میں مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے سابق جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد حنیف شباب، مسجد کے ذمہ دار مولانا سید زُبیر مارکیٹ ، جماعت اسلامی ہند بھٹکل کے امیر مقامی انجینئر نذیر احمد قاضی،معاون امیر مقامی مجاہد مصطفی جے ڈی ایس لیڈر عنایت اللہ شاہ بندری، سماجی کارکن ثناء اللہ گوائی، سید حسن برماور و دیگر کافی ذمہ داران موجود تھے۔
